Saturday, May 13, 2017

ﺑﺲ ﺗﯿﺰﯼ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﻨﺰﻝ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺟﺎﺭﮬﯽ ﺗﮭﯽ

ﺑﺲ ﺗﯿﺰﯼ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﻨﺰﻝ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺟﺎﺭﮬﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﯾﮑﺎﯾﮏ ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﻧﮯ ﺑﺮﯾﮏ ﻟﮕﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﻨﮉﯾﮑﭩﺮ ﺳﮯ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮨﻮﺍ .. " ﺳﻮﺍﺭﯼ ﭼﮍﮬﺎﻟﻮ "..
ﮐﻨﮉﯾﮑﭩﺮ ﻧﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻮﻝ ﮐﺮ ﺑﺎﮨﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ .. ﻭﮬﺎﮞ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ .. ﺳﮍﮎ ﺩﻭﺭ ﺩﻭﺭ ﺗﮏ ﻭﯾﺮﺍﻥ ﺗﮭﯽ .. ﺍﺱ ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺕ ﺳﮯ ﮈﺭﺋﯿﻮﺭ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ .. ﭘﮭﺮ ﺁﻭﺍﺯ ﻟﮕﺎﺋﯽ .. " ﺑﺎﮨﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩ .. ﺟﺎﻧﮯ ﺩﻭ "..
ﺍﺳﮑﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﺩﻭ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺑﺲ ﺟﺐ ﺁﮔﮯ ﻧﮧ ﺑﮍﮬﯽ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺣﯿﺮﺕ ﻣﯿﮟ ﻣﺰﯾﺪ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮬﻮﮔﯿﺎ .. ﺳﻮﺍﺭﯾﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻟﮕﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮨﺎﮞ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺗﮭﯽ .. ﮐﻨﮉﯾﮑﭩﺮ ﺟﺐ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ ﺍﭼﮭﻞ ﭘﮍﺍ .. ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﮐﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﺑﺘﺎﺭﮬﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺏ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ !!..
ﻣﻮﺕ ﻧﮧ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮫ ﮐﺮ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﮐﺮ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﮨﻢ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﮔﻨﺎﮬﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺸﻐﻮﻝ ﮨﯿﮟ؟ ..
ﮨﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺑﻌﺾ ﺩﻭﺳﺖ ﺍﯾﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﮐﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﮉ ﻓﻮﻧﺰ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﮔﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺩﮬﻦ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﺖ ﺭﮬﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﻌﺾ ﺗﻮ ﺍﯾﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺳﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﮔﺎﻧﮯ ﺳﻨﺘﮯ ﺳﻨﺘﮯ ﺳﻮﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ..
ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﺍﯾﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﻓﻠﻢ ﺍﻭﺭ ﮈﺭﺍﻣﻮﮞ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﮨﯿﮟ .. ﺍﺱ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻧﮧ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﺎ ﮬﻮﺵ ﻧﮧ ﺗﻼﻭﺕ ﮐﺎ ﺷﻮﻕ ﻧﮧ ﺫﮐﺮ ﻭﺍﺫﮐﺎﺭ ﮐﺎ ﺫﻭﻕ ..
ﺫﺭﺍ ﺳﻮﭼﯿﺌﮯ ﺍﺱ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﺧﺪﺍﻧﺨﻮﺍﺳﺘﮧ ﮬﻤﺎﺭﯼ ﻣﻮﺕ ﻭﺍﻗﻊ ﮬﻮﺟﺎﮰ ﺗﻮ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﮐﯿﺎ ﺣﺸﺮ ﮨﻮ ﮔﺎ؟
ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﺩﻋﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺕ ﻧﺼﯿﺐ ﻓﺮﻣﺎﺋﮯ ﺍٓﻣﯿﻦ
آگاہ اپنی موت سے کوی بشر نہیں
سامان سو برس کا پل کی خبر نہیں..

Tuesday, May 9, 2017

مکہّ میں ابوسفیان بہت بے چین تھا

مکہّ میں ابوسفیان بہت بے چین تھا
" آج کچھ ھونے والا ھے " ( وہ بڑبڑایا ) اسکی نظر آسمان کی طرف باربار اٹھ رھی تھی ۔
اسکی بیوی " ھند " جس نے حضرت امیر حمزہ کا کلیجہ چبایا تھا اسکی پریشانی دیکھ کر اسکے پاس آگئ تھی
" کیا بات ھے ؟ کیوں پریشان ھو ؟ "
" ھُوں ؟ " ابوُ سُفیان چونکا ۔ کُچھ نہیں ۔۔ " طبیعت گھبرا رھی ھے میں ذرا گھوُم کر آتا ھوُں " وہ یہ کہہ کر گھر کے بیرونی دروازے سے باھر نکل گیا
مکہّ کی گلیوں میں سے گھومتے گھومتے وہ اسکی حد تک پہنچ گیا تھا
اچانک اسکی نظر شہر سے باھر ایک وسیع میدان پر پڑی ،
ھزاروں مشعلیں روشن تھیں ، لوگوں کی چہل پہل انکی روشنی میں نظر آرھی تھی
اور بھنبھناھٹ کی آواز تھی جیسے سینکڑوں لوگ دھیمی آواز میں کچھ پڑھ رھے ھوں
اسکا دل دھک سے رہ گیا تھا ۔۔۔
اس نے فیصلہ کیا کہ وہ قریب جاکر دیکھے گا کہ یہ کون لوگ ھیں
اتنا تو وہ سمجھ ھی چکا تھا کہ مکہّ کے لوگ تو غافلوں کی نیند سو رھے ھیں اور یہ لشکر یقیناً مکہّ پر چڑھائ کیلیئے ھی آیا ھے
وہ جاننا چاھتا تھا کہ یہ کون ھیں ؟
وہ آھستہ آھستہ اوٹ لیتا اس لشکر کے کافی قریب پہنچ چکا تھا
کچھ لوگوں کو اس نے پہچان لیا تھا
یہ اسکے اپنے ھی لوگ تھے جو مسلمان ھوچکے تھے اور مدینہ ھجرت کرچکے تھے
اس کا دل ڈوب رھا تھا ، وہ سمجھ گیا تھا کہ یہ لشکر مسلمانوں کا ھے
اور یقیناً " مُحمّد ﷺ اپنے جانثاروں کیساتھ مکہّ آپہنچے تھے "
وہ چھپ کر حالات کا جائزہ لے ھی رھا تھا کہ عقب سے کسی نے اسکی گردن پر تلوار رکھ دی
اسکا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا تھا
لشکر کے پہرے داروں نے اسے پکڑ لیا تھا
اور اب اسے " بارگاہ محمّد ﷺ میں لیجا رھے تھے "
اسکا ایک ایک قدم کئ کئ من کا ھوچکا تھا
ھر قدم پر اسے اپنے کرتوت یاد آرھے تھے
جنگ بدّر ، احد ، خندق ، خیبر سب اسکی آنکھوں کے سامنے ناچ رھی تھیں
اسے یاد آرھا تھا کہ اس کیسے سرداران مکہّ کو اکٹھا کیا تھا " محمّد کو قتل کرنے کیلیئے "
کیسے نجاشی کے دربار میں جاکر تقریر کی تھی کہ ۔۔۔۔
" یہ مسلمان ھمارے غلام اور باغی ھیں انکو ھمیں واپس دو "
کیسے اسکی بیوی ھندہ نے امیر حمزہ کو اپنے غلام حبشی کے ذریعے شہید کروا کر انکا سینہؑ چاک کرکے انکا کلیجہ نکال کر چبایا اور ناک اور کان کاٹ کر گلے میں ھار بنا کر ڈالے تھے
اور اب اسے اسی محمّد ﷺ کے سامنے پیش کیا جارھا تھا
اسے یقین تھا کہ ۔۔۔
اسکی روایات کے مطابق اُس جیسے " دھشت گرد " کو فوراً تہہ تیغ کردیا جاۓ گا ۔
اُدھر ۔۔۔۔
" بارگاہ رحمت للعالمین ﷺ میں اصحاب رض جمع تھے اور صبح کے اقدامات کے بارے میں مشاورت چل رھی تھی کہ کسی نے آکر ابوسفیان کی گرفتاری کی خبر دے دی
" اللہ اکبر " خیمہؑ میں نعرہ تکبیر بلند ھوا
ابوسفیان کی گرفتاری ایک بہت بڑی خبر اور کامیابی تھی
خیمہؑ میں موجود عمر ابن الخطاب اٹھ کر کھڑے ھوۓ اور تلوار کو میان سے نکال کر انتہائ جوش کے عالم میں بولے ۔۔
" اس بدبخت کو قتل کردینا چاھیئے شروع سے سارے فساد کی جڑ یہی رھا ھے "
چہرہ مبارک رحمت للعالمین ﷺ پر تبسّم نمودار ھوا
اور انکی دلوں میں اترتی ھوئ آواز گونجی
" بیٹھ جاؤ عمر ۔۔ اسے آنے دو "
عمر ابن خطاب آنکھوں میں غیض لیئے حکم رسول ﷺ کی اطاعت میں بیٹھ تو گۓ لیکن ان کے چہرے کی سرخی بتا رھی تھی کہ انکا بس چلتا تو ابوسفیان کے ٹکڑے کرڈالتے
اتنے میں پہرے داروں نے بارگاہ رسالت ﷺ میں حاضر ھونے کی اجازت چاھی
اجازت ملنے پر ابوسفیان کو رحمت للعالمین کے سامنے اس حال میں پیش کیا گیا کہ اسکے ھاتھ اسی کے عمامے سے اسکی پشت پر بندھے ھوۓ تھے
چہرے کی رنگت پیلی پڑ چکی تھی
اور اسکی آنکھوں میں موت کے ساۓ لہرا رھے تھے
لب ھاۓ رسالت مآب ﷺ وا ھوۓ ۔۔۔
اور اصحاب رض نے ایک عجیب جملہؑ سنا
" اسکے ھاتھ کھول دو اور اسکو پانی پلاؤ ، بیٹھ جاؤ ابوسفیان ۔۔ !! "
ابوسفیان ھارے ھوۓ جواری کی طرح گرنے کے انداز میں خیمہؑ کے فرش پر بچھے قالین پر بیٹھ گیا ۔
پانی پی کر اسکو کچھ حوصلہ ھوا تو نظر اٹھا کر خیمہؑ میں موجود لوگوں کی طرف دیکھا
عمر ابن خطاب کی آنکھیں غصّہ سے سرخ تھیں
ابوبکر ابن قحافہ کی آنکھوں میں اسکے لیئے افسوس کا تاثر تھا
عثمان بن عفان کے چہرے پر عزیزداری کی ھمدردی اور افسوس کا ملا جلا تاثر تھا
علیؑ ابن ابوطالبؑ کا چہرہ سپاٹ تھا
اسی طرح باقی تما اصحاب کے چہروں کو دیکھتا دیکھتا آخر اسکی نظر محمّد ﷺ کے چہرہ مبارک پر آکر ٹھر گئ
جہاں جلالت و رحمت کے خوبصورت امتزاج کیساتھ کائنات کی خوبصورت ترین مسکراھٹ تھی
" کہو ابوسفیان ؟ کیسے آنا ھوا ؟؟ "
ابوسفیان کے گلے میں جیسے آواز ھی نہیں رھی تھی
بہت ھمّت کرکے بولا ۔۔ " مم ۔۔ میں اسلام قبول کرنا چاھتا ھوں ؟؟ "
عمر ابن خطاب ایک بار پھر اٹھ کھڑے ھوۓ
" یارسول اللہ ﷺ یہ شخص مکّاری کررھا ھے ، جان بچانے کیلیئے اسلام قبول کرنا چاھتا ھے ، مجھے اجازت دیجیئے ، میں آج اس دشمن ازلی کا خاتمہؑ کر ھی دوں " انکے مونہہ سے کف جاری تھا ۔۔۔
" بیٹھ جاؤ عمر ۔۔۔ " رسالت مآب ﷺ نے نرمی سے پھر فرمایا
" بولو ابوسفیان ۔۔ کیا تم واقعی اسلام قبول کرنا چاھتے ھو ؟ "
" جج ۔۔ جی یا رسول اللہ ﷺ ۔۔ میں اسلام قبول کرنا چاھتا ھوں میں سمجھ گیا ھوں کہ آپؐ اور آپکا دین بھی سچّا ھے اور آپ کا خدا بھی سچّا ھے ، اسکا وعدہ پورا ھوا ۔ میں جان گیا ھوں کہ صبح مکہّ کو فتح ھونے سے کوئ نہیں بچا سکے گا "
چہرہؑ رسالت مآب ﷺ پر مسکراھٹ پھیلی ۔۔
" ٹھیک ھے ابوسفیان ۔۔
تو میں تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ھوں اور تمہاری درخواست قبول کرتا ھوں جاؤ تم آزاد ھو ، صبح ھم مکہّ میں داخل ھونگے انشاء اللہ
میں تمہارے گھر کو جہاں آج تک اسلام اور ھمارے خلاف سازشیں ھوتی رھیں ، جاۓ امن قرار دیتا ھوں ، جو تمہارے گھر میں پناہ لےلے گا وہ محفوظ ھے ، "
۔
ابوسفیان کی آنکھیں حیرت سے پھٹتی جا رھی تھیں
۔
" اور مکہّ والوں سے کہنا ۔۔ جو بیت اللہ میں داخل ھوگیا اسکو امان ھے ، جو اپنی کسی عبادت گاہ میں چلا گیا ، اسکو امان ھے ، یہاں تک کہ جو اپنے گھروں میں بیٹھ رھا اسکو امان ھے ،
جاؤ ابوسفیان ۔۔۔ جاؤ اور جاکر صبح ھماری آمد کا انتظار کرو 
اور کہنا مکہّ والوں سے کہ ھماری کوئ تلوار میان سے باھر نہیں ھوگی ، ھمارا کوئ تیر ترکش سے باھر نہیں ھوگا
ھمارا کوئ نیزہ کسی کی طرف سیدھا نہیں ھوگا جب تک کہ کوئ ھمارے ساتھ لڑنا نہ چاھے "
۔
ابوسفیان نے حیرت سے محمّد ﷺ کی طرف دیکھا اور کانپتے ھوۓ ھونٹوں سے بولنا شروع کیا ۔۔
" اشھد ان لاالہٰ الا اللہ و اشھد ان محمّد عبدہُ و رسولہُ "
۔
سب سے پہلے عمر ابن خطاب آگے بڑھے ۔۔ اور ابوسفیان کو گلے سے لگایا
" مرحبا اے ابوسفیان ، اب سے تم ھمارے دینی بھائ ھوگۓ ، تمہاری جان ، مال ھمارے اوپر ویسے ھی حرام ھوگیا جیسا کہ ھر مسلمان کا دوسرے پر حرام ھے ، تم کو مبارک ھو کہ تمہاری پچھلی ساری خطائیں معاف کردی گئیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ تمہارے پچھلے گناہ معاف فرماۓ "
ابوسفیان حیرت سے خطاب کے بیٹے کو دیکھ رھا تھا
یہ وھی تھا کہ چند لمحے پہلے جسکی آنکھوں میں اس کیلیئے شدید نفرت اور غصّہ تھا اور جو اسکی جان لینا چاھتا تھا
اب وھی اسکو گلے سے لگا کر بھائ بول رھا تھا ؟
یہ کیسا دین ھے ؟
یہ کیسے لوگ ھیں ؟
سب سے گلے مل کر اور رسول اللہ ﷺ کے ھاتھوں پر بوسہ دے کر ابوسفیان خیمہؑ سے باھر نکل گیا
" وہ دھشت گرد ابوسفیان کہ جس کے شر سے مسلمان آج تک تنگ تھے انہی کے درمیان سے سلامتی سے گزرتا ھوا جارھا تھا ، جہاں سے گزرتا ، اس اسلامی لشکر کا ھر فرد ، ھر جنگجو ، ھر سپاھی جو تھوڑی دیر پہلے اسکی جان کے دشمن تھے اب آگے بڑھ بڑھ کر اس سے مصافحہ کررھے تھے ، اسے مبارکباد دے رھے تھے ، خوش آمدید کہہ رھے تھے ۔۔ "
اگلے دن ۔۔۔
مکہّ شہر کی حد پر جو لوگ کھڑے تھے ان میں سب سے نمایاں ابوسفیان تھا
مسلمانوں کا لشکر مکہّ میں داخل ھوچکا تھا
کسی ایک تلوار ، کسی ایک نیزے کی انی ، کسی ایک تیر کی نوک پر خون کا ایک قطرہ بھی نہیں تھا
لشکر اسلام کو ھدایات مل چکی تھیں
کسی کے گھر میں داخل مت ھونا
کسی کی عبادت گاہ کو نقصان مت پہنچانا
کسی کا پیچھا مت کرنا
عورتوں اور بچوں پر ھاتھ نہ اٹھانا
کسی کا مال نہ لوٹنا
بلال حبشئ آگے آگے اعلان کرتا جارھا تھا
" مکہّ والو ۔۔۔ رسول خدا ﷺ کی طرف سے ۔۔۔
آج تم سب کیلیئے عام معافی کا اعلان ھے ۔۔
کسی سے اسکے سابقہ اعمال کی بازپرس نہیں کی جاۓ گی ،
جو اسلام قبول کرنا چاھے وہ کرسکتا ھے
جو نہ کرنا چاھے وہ اپنے سابقہ دین پر رہ سکتا ھے
سب کو انکے مذھب کے مطابق عبادت کی کھلی اجازت ھوگی
صرف مسجد الحرام اور اسکی حدود کے اندر بت پرستی کی اجازت نہیں ھوگی
کسی کا ذریعہ معاش چھینا نہیں جاۓ گا
کسی کو اسکی ارضی و جائیداد سے محروم نہیں کیا جاۓ گا
غیر مسلموں کے جان و مال کی حفاظت مسلمان کریں گے
اے مکہّ کے لوگو ۔۔۔۔ !! "
۔
ھندہ اپنے گھر کے دروازے پر کھڑی لشکر اسلام کو گزرتے دیکھ رھی تھی
اسکا دل گواھی نہیں دے رھا تھا کہ " حضرت حمزہ " کا قتل اسکو معاف کردیا جاۓ گا
لیکن ابوسفیان نے تو رات یہی کہا تھا کہ ۔۔۔
" اسلام قبول کرلو ۔۔ سب غلطیاں معاف ھوجائیں گی " 
مکہّ فتح ھوچکا تھا
بنا ظلم و تشدد ، بنا خون بہاۓ ، بنا تیر و تلوار چلاۓ ،
لو گ جوق در جوق اس آفاقی مذھب کو اختیار کرنے اور اللہ کی توحید اور رسول اللہ ﷺ کی رسالت کا اقرار کرنے مسجد حرام کے صحن میں جمع ھورھے تھے
اور تبھی مکہّ والوں نے دیکھا ۔۔۔
" اس ھجوم میں ھندہ بھی شامل ۔۔ یہ سکھایا تھا میرے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ﷺ نے۔۔۔۔۔۔۔
اور انہی تعلیمات کا حلیہ بگاڑ رہے ہیں ہم جیسے گناہ گار ۔۔۔اور جہالت میں ڈوبے انسان۔۔۔

ﺯﯾﺪ ﻧﮯ ﺣﺎﻣﺪ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ

پهلی ﮐﮩﺎﻧﯽ
ﺯﯾﺪ ﻧﮯ ﺣﺎﻣﺪ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ:
ﺗﻢ ﮐﮩﺎﮞ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮ ؟؟
ﺣﺎﻣﺪ : ﻓﻼﮞ ﺩﮐﺎﻥ ﻣﯿﮟ
ﻣﺎﮨﺎﻧﮧ ﮐﺘﻨﯽ ﺗﻨﺨﻮﺍﮦ ﺩﯾﺘﺎﮨﮯ؟
ﺣﺎﻣﺪ 18000: ﺭﻭﭘﮯ ،
ﺯﯾﺪ 18000: ﺭﻭﭘﮯ ﺑﺲ،
ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯿﺴﮯ ﮐﭩﺘﯽ ﮨﮯ ﺍﺗﻨﮯ ﭘﯿﺴﻮﮞ ﻣﯿﮟ ؟؟
ﺣﺎﻣﺪ ۔ﮔﮩﺮﯼ ﺳﺎﻧﺲ ﮐﮭﯿﻨﭽﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ۔ ﺑﺲ ﯾﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﺑﺘﺎﻭﮞ
ﻣﯿﭩﻨﮓ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﺋﯽ
. ﮐﭽﮫ ﺩﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ
ﺣﺎﻣﺪ ﺍﺏ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﺎﻡ ﺳﮯ ﺑﯿﺰﺍﺭ ﮨﻮﮔﯿﺎ ، ﺍﻭﺭ ﺗﻨﺨﻮﺍﮦ ﺑﮍﮬﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﮈﯾﻤﺎﻧﮉ ﮐﺮﺩﯼ ﺟﺴﮯ ﻣﻨﭧ ﺳﮯ ﭘﯿﺸﺘﺮ ﻣﺎﻟﮏ ﻧﮯ ﺭﺩ ﮐﺮﺩﯾﺎ، ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻧﮯ ﺟﺎﺏ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺭﻭﺯﮔﺎﺭ ﮨﻮﮔﯿﺎ،،ﭘﮩﻠﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮐﺎﻡ ﺗﮭﺎ ﺍﺏ ﮐﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺎ
ﻣﻮﺭﺍﻝ۔
ﺳﯿﺎﻧﮯ ﺳﭻ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ
" ﻗﻠﯿﻞ ﺩﺍﺋﻢ ﺧﯿﺮ ﻣﻦ ﮐﺜﯿﺮ ﻣﻨﻘﻄﻊ "
ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﻟﯿﮑﻦ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﻣﻠﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﻣﺎﻝ ﺍﺱ ﻣﺎﻝ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﭼﮭﭙﮍ ﭘﮭﺎﮌ ﮐﺮ ﻣﻠﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺘﻨﯽ ﺗﯿﺰﯼ ﺳﮯ ﺁﺋﮯ ﺍﺗﻨﯽ ﺗﯿﺰﯼ ﺳﮯ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ
. ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺩﻭﺳﺮﯼ ﮐﮩﺎﻧﯽ
ﺍﯾﮏ ﺳﮩﯿﻠﯽ ﻧﮯ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺳﮩﯿﻠﯽ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ
ﺑﭽﮧ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺷﻮﮨﺮ ﻧﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺗﺤﻔﮧ ﺩﯾﺎ ؟؟؟
ﺳﮩﯿﻠﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ
, ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺍﭼﮭﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ۔؟؟
ﮐﯿﺎ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﮐﻮﺋﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﻧﮩﯿﮟ؟؟؟
ﻟﻔﻈﻮﮞ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺯﮨﺮﯾﻼ ﺑﻢ ﮔﺮﺍﮐﺮ ﻭﮦ ﺳﮩﯿﻠﯽ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺳﮩﯿﻠﯽ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﻓﮑﺮ ﻣﯿﮟ ﻏﻠﻄﺎﮞ ﻭ ﭘﯿﭽﺎﮞ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﭼﻠﺘﯽ ﺑﻨﯽ
. ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﻇﮩﺮ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺍﺱ ﮐﺎﺷﻮﮨﺮ ﮔﮭﺮ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﺎ ﻣﻨﮧ ﻟﭩﮑﺎ ﮨﻮﺍﭘﺎﯾﺎ
ﭘﮭﺮ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﮭﮕﮍﺍ ﮨﻮﺍﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﻮ ﻟﻌﻨﺖ ﺑﮭﯿﺠﯽ ﻣﺎﺭﭘﯿﭧ ﮨﻮﺋﯽ ﺷﻮﮨﺮ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﻃﻼﻕ ﺩﮮ ﺩﯼ، .
ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﭘﺮﺍﺑﻠﻢ ﮐﯽ ﺷﺮﻭﻋﺎﺕ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﮨﻮﺋﯽ؟؟
ﺍﺱ ﻓﻀﻮﻝ ﺟﻤﻠﮯ ﺳﮯﺟﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺯﯾﺎﺭﺕ ﮐﺮﻧﮯ ﺁﺋﯽ ﺳﮩﯿﻠﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ .
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺗﯿﺴﺮﯼ ﮐﮩﺎﻧﯽ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﻓﮑﺮ ﻭ ﻗﻠﻖ ﺳﮯ ﺁﺯﺍﺩ ﺑﺎﭖ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﮐﮩﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﻧﻔﺮﺕ ﮐﺎ ﻣﻨﺘﺮ ﭘﮭﻮﻧﮑﺎ ﮐﮧ
ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺑﯿﭩﺎ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺯﯾﺎﺭﺕ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ ﮐﯿﺎ ﺍﺳﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺩﻝ ﮐﯽ ﮔﮩﺮﺍﺋﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﻧﮩﯿﮟ ؟؟؟
ﺑﺎﭖ ﻧﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻋﺬﺭ ﺗﺮﺍﺷﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ
ﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﺎﻡ ﮐﺎ ﺑﯿﮏ ﮔﺮﺍﻭﻧﮉ ﺍﻭﺭ ﺷﯿﮉﻭﻝ ﺑﮩﺖ ﺳﺨﺖ ﮨﮯ ﺍﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﮐﻢ ﻭﻗﺖ ﻣﻠﺘﺎ ﮨﮯ
ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ۔ ﺗﻢ ﮐﯿﺴﮯ ﻣﺎﻥ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﻮ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﻮ ﮐﺎﻡ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺁﭖ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﮐﺎ ﻭﻗﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﺎ ؟؟
ﯾﮧ ﺗﻮ ﻧﮧ ﻣﻠﻨﮯ ﮐﺎ ﻣﺎﮈﺭﻥ ﺑﮩﺎﻧﺎ ﮨﮯ
ﺍﺱ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﮐﮯ ﮐﭽﮫ ﺩﻧﻮﮞ ﺑﻌﺪ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﮯ ﺗﻌﻠﻖ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﯽ ﺟﯿﺴﯽ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﻧﺎ ﺭﮨﯽ ﺍﻭﺭ ﺭﺿﺎﻣﻨﺪﯼ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ ﻧﻔﺮﺕ ﻭ ﺣﻘﺎﺭﺕ ﻧﮯ ﻟﮯ ﻟﯽ .
ﺑﮯ ﺷﮏ ﺍﮮ ﻗﺎﺭﯼ
ﮐﭽﮫ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺑﻮﻝ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ
ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺭﻭﺯ ﻣﺮﮦ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﺳﻮﺍﻻﺕ ﮨﻤﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ .. :
ﺗﻢ ﻧﮯ ﯾﮧ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺧﺮﯾﺪﺍ؟؟
ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﯾﮧ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ؟؟
ﺗﻢ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯿﺴﮯ ﭼﻞ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﻮ ؟؟
ﺗﻢ ﺍﺳﮯ ﮐﯿﺴﮯ ﻣﺎﻥ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﻮ؟؟
ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﮯ ﺑﯿﺸﺘﺮ ﺳﻮﺍﻻﺕ ﻧﺎﺩﺍﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﯾﺎ ﺑﻼ ﻣﻘﺼﺪ ﮨﻢ ﭘﻮﭼﮫ ﺑﯿﭩﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺒﮑﮧ ﯾﮧ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﯾﮧ ﺳﻮﺍﻻﺕ ﺳﻨﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﻧﻔﺮﺕ ﯾﺎ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ ﮐﻮﻥ ﺳﺎ ﺑﯿﺞ ﺑﻮﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ۔
ﻓﺴﺎﺩ ﭘﮭﯿﻼﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻧﺎ ﺑﻨﻮ
ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺪﮬﮯ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺟﺎﻭ
ﺍﻭﺭ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﮔﻮﻧﮕﺎ ﺑﻦ ﮐﺮ ﻧﮑﻠﻮ"

ﯾﮧ ﺍﯾﮏ ﻋﺎﻟﯽ ﺷﺎﻥ ﮨﻮﭨﻞ ﮐﺎ ﻭﺳﯿﻊ ﮨﺎﻝ ﺗﮭﺎ۔

ﯾﮧ ﺍﯾﮏ ﻋﺎﻟﯽ ﺷﺎﻥ ﮨﻮﭨﻞ ﮐﺎ ﻭﺳﯿﻊ ﮨﺎﻝ ﺗﮭﺎ۔ ﻭﮨﺎﮞ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺍﺳﭩﯿﺞ ﮐﻮ ﺑﮭﺮﭘﻮﺭ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﺳﮯ ﺳﺠﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﺍﻃﺮﺍﻑ ﺑﮍﮮ ﺑﮍﮮ ﺑﯿﻨﺮ ﺁﻭﯾﺰﺍﮞ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﺳﭩﯿﺞ ﮐﻮ ﮐﺌﯽ ﺣﺼﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻘﺴﯿﻢ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺣﺼﮧ ﻣﮩﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ، ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺣﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﮐﯿﺒﻦ، ﺍﯾﮏ ﺟﺎﻧﺐ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﺳﺎ ﺣﻮﺽ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﻓﻮﺍﺭﮮ ﻟﮕﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﭻ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﯿﮟ ﮐﮩﯿﮟ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﻤﻠﮯ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ ﺗﺮﺗﯿﺐ ﺳﮯ ﻧﺸﺴﺘﯿﮟ ﻟﮕﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻧﺸﺴﺘﻮﮞ ﭘﺮ ﺑﭽﮯ، ﺑﻮﮌﮬﮯ، ﻣﺮﺩ، ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﻓﯿﻤﻠﯿﺎﮞ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔
ﺍﺳﭩﯿﺞ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﻣﺪﺍﺭﯼ ﺑﮭﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﮭﺎ ﺟﺴﮯ ﻟﻮﮒ ﻣﯿﺰﺑﺎﻥ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻣﺪﺍﺭﯼ ﻧﮯ ﻣﺎﺋﯿﮏ ﺗﮭﺎﻣﺎ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﻧﭽﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺳﮯ ﭼﻼ ﺭﮨﺎ ﺗﺎ ﮐﮧ ‘‘ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﭼﻨﺪ ﻣﻨﭧ ﺑﺎﻗﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺖ ﺟﻠﺪ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﮐﮧ ﺍﻥ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﻧﻌﺎﻡ ﮐﻮﻥ ﺟﯿﺘﺘﺎ ﮨﮯ ‘‘ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﺪﺍﺭﯼ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﮭﮍﮮ ﭼﺎﺭ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﻧﺴﺒﺘﺎ ﺑﮍﯼ ﻋﻤﺮ ﻭﺍﻟﮯ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﮐﻨﺪﮬﮯ ﺳﮯ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﺁﮔﮯ ﻟﮯ ﺁﯾﺎ۔ ﺳﺐ ﮐﯽ ﻧﻈﺮﯾﮟ ﻣﺪﺍﺭﯼ ﭘﺮ ﺟﻤﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﮐﻨﺪﮬﮯ ﺳﮯ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﺯﻭﺭ ﺳﮯ ﺟﮭﻨﺠﮭﻮﮌﺍ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﭘﮭﺮ ﭘﻮﺭﮮ ﺯﻭﺭ ﺳﮯ ﮐﮩﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯾﺎ ‘‘ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﯾﮧ ﺍﻧﻌﺎﻡ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﺱ ﭘﺎﻧﯽ ﺑﮭﺮﮮ ﺣﻮﺽ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﻼﻧﮓ ﻟﮕﺎﻧﺎ ﭘﮍﮮ ﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺍﻧﻌﺎﻡ ﻣﺎﻧﮕﻮ ‘‘ ۔ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﻼﻧﮓ ﻟﮕﺎ ﺩﯼ، ﻻﻟﭻ ﺍﭼﮭﮯ ﺑﮭﻠﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺍﻧﺪﮬﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺣﻮﺽ ﻣﯿﮟ ﺍﭼﮭﻞ ﮐﻮﺩ ﮐﯽ، ﺣﻮﺽ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺟﻮﮌﮮ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺍﻧﻌﺎﻡ ﻣﺎﻧﮕﻨﮯ ﮐﯽ ﺍﺩﺍﮐﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﻣﺪﺍﺭﯼ ﻧﮧ ﻣﺎﻧﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﺣﻮﺽ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻞ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺅﮞ ﭘﮑﮍ ﻟﯿﮯ، ﯾﮧ ﺳﺎﺭﯼ ﺍﺩﺍﮐﺎﺭﯼ ﺍﯾﺴﯽ ﺻﻮﺭﺗﺤﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﮨﻮ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﺟﺐ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ، ﻣﺮﺩ ﺍﻭﺭ ﻓﯿﻤﻠﯿﺎﮞ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﻣﺪﺍﺭﯼ ﮐﯽ ﺑﺘﯿﺴﯽ ﻧﮑﻞ ﺁﺋﯽ، ﺍﺱ ﻧﮯ ﺷﺎﻃﺮﺍﻧﮧ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺳﮯ ﺳﺎﺋﯿﮉ ﭘﮯ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﻠﮯ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﺍﺳﯽ ﺗﻤﺎﺷﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺁﮔﮯ ﮐﺮﺩﯾﺎ۔ ﯾﻮﮞ ﺑﺎﺭﯼ ﺑﺎﺭﯼ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﻧﮯ ﺍﺩﺍﮐﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﻌﺎﻡ ﮐﮯ ﺣﺼﻮﻝ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺍﭘﻨﺎﺋﮯ۔ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﭘﺎﺅﮞ ﭘﮑﮍﮮ، ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺁﮦ ﻭ ﺯﺍﺭﯼ ﮐﯽ، ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﻏﺮﺑﺖ ﮐﺎ ﺭﻭﻧﺎ ﺭﻭﯾﺎ، ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﭘﮭﺎﮌ ﮈﺍﻟﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﮨﺎﺗﮫ ﺟﻮﮌ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔ ﻣﺪﺍﺭﯼ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﺗﺎ ﺭﮨﺎ، ﺍﺩﺍﮐﺎﺭﯼ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﺋﯽ، ﻣﺪﺍﺭﯼ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﺲ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﻋﺰﺕ ﻧﻔﺲ ﮐﺎ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﭘﮍﮬﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺳﮯ ﺍﻧﻌﺎﻡ ﺳﮯ ﻧﻮﺍﺯ ﺩﯾﺎ ‘‘ ۔ ﯾﮧ ﺳﯿﻦ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺳﯿﻦ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺍ۔
ﻣﺪﺍﺭﯼ ﻧﮯ ﺳﺎﻣﻌﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺗﯿﻦ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﺨﺎﺏ ﮐﯿﺎ۔ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﻗﺮﻋﮧ ﺍﻧﺪﺍﺯﯼ ﮐﯽ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻧﮑﻞ ﺁﯾﺎ۔ ﻣﺪﺍﺭﯼ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﺪﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺯﻭﺭ ﺳﮯ ﭼﻼﯾﺎ ‘‘ ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﺍﻧﻌﺎﻡ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮈﮬﺎﺋﯽ ﻣﻨﭧ ﭘﺎﮔﻞ ﭘﻦ ﮐﯽ ﺍﺩﺍﮐﺎﺭﯼ ﮐﺮﻧﯽ ﭘﮍﮮ ﮔﯽ ’’ ﻟﮍﮐﺎ ﻧﻮ ﻋﻤﺮ ﺗﮭﺎ ﻓﻮﺭﺍً ﻣﺎﻥ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﺩﺍﮐﺎﺭﯼ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺋﯽ، ﻟﮍﮐﺎ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﮔﻞ ﮨﻮﮞ ،ﻣﯿﮟ ﭘﺎﮔﻞ ﮨﻮﮞ، ﻟﯿﮑﻦ ﻣﺪﺍﺭﯼ ﮐﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ، ﻟﮩﺬﺍ ﺍﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﺻﺮﻑ ﮐﮩﻨﮯ ﺳﮯ ﮐﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﻠﮯ ﮔﺎ ﺑﻠﮑﮧ ﭘﺎﮔﻞ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺩﮐﮭﺎﺅ۔ ﻟﮍﮐﮯ ﻧﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﻝ ﻧﻮﭼﻨﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﮯ، ﭘﮭﺮ ﮔﺮﯾﺒﺎﻥ ﭘﮭﺎﮌﺍ، ﻗﻤﯿﺾ ﭘﮭﺎﮌ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ ﭘﮭﯿﻨﮑﯽ ﺍﻭﺭ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﻟﻮﭦ ﭘﻮﭦ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ۔ ﺍﺏ ﻭﮦ ﮐﺎﻓﯽ ﺣﺪ ﺗﮏ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺎﮔﻞ ﭘﻦ ﮐﺎ ﻣﻈﺎﮨﺮﮦ ﮐﺮ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺪﺍﺭﯼ ﮐﯽ ﺫﮨﻨﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ، ﮈﮬﺎﺋﯽ ﻣﻨﭧ ﺗﮏ ﮐﯿﻤﺮﮮ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻭﮦ ﻟﮍﮐﺎ ﺍﭘﻨﯽ ﻋﺰﺕ ﮐﯽ ﺩﮬﺠﯿﺎﮞ ﺗﺎﺭ ﺗﺎﺭ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﻵﺧﺮ ﺍﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﻌﺎﻡ ﮐﺎ ﻣﺴﺘﺤﻖ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔
ﺍﺏ ﺗﯿﺴﺮﺍ ﺳﯿﻦ ﻣﻼﺣﻈﮧ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﭘﺮﻭﮔﺮﺍﻡ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﻧﺴﺒﺘﺎً ﺍﯾﮏ ﺍﺩﮬﯿﮍ ﻋﻤﺮ ﮐﯽ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﻮ ﻣﻨﺘﺨﺐ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﺳﭩﯿﺞ ﭘﺮ ﺑﻼﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﭘﺮ ﭘﭩﯽ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﮐﺮ ﺻﺮﻑ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﭼﮭﻮ ﮐﺮ ﮐﭽﮫ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﺳﺖ ﻧﺎﻡ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﮟ ﮔﯽ ﺗﻮ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻓﻼﮞ ﺍﻧﻌﺎﻡ ﺳﮯ ﻧﻮﺍﺯﺍ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔ ﺍﻧﻌﺎﻡ ﮐﯽ ﻻﻟﭻ ﻣﯿﮟ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﭘﺮ ﭘﭩﯽ ﺑﺎﻧﺪﮬﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﭩﯿﺞ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﻮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺷﯿﺸﮯ ﮐﮯ ﺑﻨﮯ ﭼﻨﺪﮈﺑﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻟﮯ ﺟﺎﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻧﯿﭽﮯ ﺟﮭﮑﮯ، ﺷﯿﺸﮯ ﮐﮯ ﺍﻥ ﮈﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ﮈﺍﻟﮯ ﺍﻭﺭﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﭼﯿﺰ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ ﺍﺳﮯ ﭼﮭﻮ ﮐﺮ ﺑﺘﺎﺋﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ۔ ﺑﻮﮌﮬﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﯾﮑﮯ ﺑﻌﺪ ﺩﯾﮕﺮﮮ ﭼﮫ ﺧﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺟﮭﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﭼﮭﻮ ﮐﺮ ﺑﺘﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﺟﻮﺍﺏ ﻏﻠﻂ ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﭘﮩﻠﮯ ﺧﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﮔﻮﺑﮭﯽ ﮐﮯ ﭼﻨﺪ ﭘﺘﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ،ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺧﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﭼﻮﮨﮯ، ﺗﯿﺴﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮭﻮﮮ، ﭼﻮﺗﮭﮯ ﻣﯿﮟ ﺧﺮﮔﻮﺵ، ﭘﺎﻧﭽﻮﯾﮟ ﻣﯿﮟ ﻣﮕﺮﻣﭽﮫ ﺍﻭﺭ ﭼﭩﮭﮯ ﺧﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﻮﭨﺎ ﺗﺎﺯﮦ ﺳﺎﻧﭗ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﭩﯽ ﮐﮭﻮﻟﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭﺍﺳﮯ ﺍﺻﻞ ﺍﺷﯿﺎﺀ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﭼﯿﺦ ﻧﮑﻞ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﻨﺪ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﻦ ﮐﻦ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﺗﯽ ﺭﮨﯽ۔ ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﻣﻮﭨﺎ ﺗﺎﺯﮦ ﺳﺎﻧﭗ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻝ ﮐﺮ ﺍﺳﮯ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺳﺎﻣﻌﯿﻦ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺟﻮ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺷﻮﺭ ﻣﭽﺎﺋﮯ ﺁﭖ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺍﺳﮯ ﮈﺭﺍﺋﯿﮟ ﮔﯽ۔
ﺁﭖ ﺳﻮﭺ ﺭﮨﮯ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﮐﺴﯽ ﺳﺮﮐﺲ ﮐﮯ ﻣﻨﺎﻇﺮ ﮨﯿﮟ۔ ﻏﻠﻂ ،ﯾﮧ ﭨﯽ ﻭﯼ ﭼﯿﻨﻠﺰ ﭘﺮ ﻧﺸﺮ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﮐﮯ ﭘﺮﻭﮔﺮﺍﻣﺎﺕ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺟﻮ ﮨﺮ ﺳﺎﻝ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﺍﻟﻤﺒﺎﺭﮎ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﭘﭽﺎﺱ ﺳﮯ ﺯﺍﺋﺪ ﭼﯿﻨﻠﺰ ﭘﺮ ﺩﮐﮭﺎﺋﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﭘﭽﮭﻠﮯ ﺳﺎﻝ ﭘﯿﻤﺮﺍ ﻧﮯ ﮐﭽﮫ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﮐﺎ ﻧﻮﭨﺲ ﻟﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﺠﻤﻮﻋﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﮨﺮ ﭨﯽ ﻭﯼ ﭼﯿﻨﻞ ﭘﺮ ﯾﮩﯽ ﻓﻀﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺭﮐﮭﯽ۔ ﺍﺱ ﺳﺎﻝ ﭘﯿﻤﺮﺍ ﻧﮯ ﺩﺍﻧﺸﻤﻨﺪﯼ ﮐﺎ ﺛﺒﻮﺕ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﮨﺪﺍﯾﺎﺕ ﺟﺎﺭﯼ ﮐﺮ ﺩﯼ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﮐﺴﯽ ﭼﯿﻨﻞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﯽ ﺧﺮﺍﻓﺎﺕ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺳﺨﺖ ﺍﯾﮑﺸﻦ ﻟﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔ ﭘﯿﻤﺮﺍ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺟﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﮨﺪﺍﯾﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﻮﺿﻮﻋﺎﺕ ﮐﮯ ﭼﻨﺎﺅ، ﻣﮩﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﺨﺎﺏ، ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺍﻗﺪﺍﺭ ﻭ ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ ﮐﯽ ﭘﺎﺳﺪﺍﺭﯼ، ﻟﺒﺎﺱ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﺨﺎﺏ، ﻃﺮﺯ ﮔﻔﺘﮕﻮ، ﻣﻠﮑﯽ ﺳﻼﻣﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﺤﻔﻆ، ﺗﺸﺪﺩ ﭘﺴﻨﺪﺍﻧﮧ ﻧﻈﺮﯾﺎﺕ ﮐﯽ ﺗﺸﮩﯿﺮ، ﺳﺤﺮ ﻭ ﺍﻓﻄﺎﺭ ﮐﮯ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﻌﺎﻣﯽ ﺷﻮﺯ ﮐﮯ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺭﺷﺪ ﻭ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﮐﮯ ﭘﺮﻭﮔﺮﺍﻣﺰ، ﻻﻭﺍﺭﺙ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﯽ ﺣﻮﺍﻟﮕﯽ، ﺗﻔﺮﯾﺤﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﺰ ﭘﺮﻭﮔﺮﺍﻣﺰ ﮐﻮ ﻧﺸﺮ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﺭﺍﺕ ﻧﻮ ﺑﺠﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻭﺭ ﺁﺧﺮﯼ ﻋﺸﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﭘﺎﺑﻨﺪﯼ، ﺍﺷﺘﮩﺎﺭﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﺭﻣﻀﺎﻥ، ﺩﻭﺭﺍﻥ ﭘﺮﻭﮔﺮﺍﻡ ﺷﺮﮐﺎﺀ ﺳﮯ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﻗﺴﻢ ﮐﯽ ﺍﺩﺍﮐﺎﺭﯼ ﮐﺮﻭﺍﻧﺎ ﻣﺜﻼ ﮔﺎﻧﺎ ﮔﺎﻧﺎ، ﮈﺍﻧﺲ، ﺁﻡ ﮐﮭﺎﻧﺎ، ﭘﺎﮔﻞ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺩﮐﮭﺎﻧﺎ، ﻏﯿﺮ ﻣﻌﯿﺎﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﻏﯿﺮ ﺍﺧﻼﻗﯽ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﺳﮯ ﺍﺟﺘﻨﺎﺏ، ﺳﺎﻣﻌﯿﻦ ﮐﯽ ﻋﺰﺕ ﻧﻔﺲ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﻧﻌﺎﻡ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻧﮧ ﺍﭼﮭﺎﻟﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﺍﻥ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﮈﯾﻤﺎﻧﮉ ﮐﺮﻧﺎ ﺟﺲ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻋﺰﺕ ﻧﻔﺲ ﻣﺠﺮﻭﺡ ﮨﻮ، ﻧﻈﺮﯾﮧ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﻧﯿﺎﻥ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﺎ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ،ﻓﺮﻗﮧ ﻭﺭﺍﻧﮧ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﺳﮯ ﺍﺟﺘﻨﺎﺏ ﺍﻭﺭ ﻧﺴﻠﯽ، ﻗﻮﻣﯽ، ﻋﻼﻗﺎﺋﯽ ﯾﺎ ﻟﺴﺎﻧﯽ ﺗﻘﺴﯿﻢ ﭘﺮ ﻣﺒﻨﯽ ﺗﺒﺼﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﭘﺮﮨﯿﺰ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﻮﮔﺎ۔ ﭘﯿﻤﺮﺍ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭﯼ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮔﯿﻨﺪ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﯽ ﮐﻮﺭﭦ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻝ ﺩﯼ ﮨﮯ ﺍﺏ ﺍﮔﻼ ﮐﺎﻡ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺟﮩﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﺍﺣﮑﺎﻣﺎﺕ ﮐﯽ ﺧﻼﻑ ﻭﺭﺯﯼ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﻓﻮﺭﺍً ﭘﯿﻤﺮﺍ ﮐﻮ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﺩﺭﺝ ﮐﺮﻭﺍﺋﯿﮟ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﺱ ﻣﻘﺪﺱ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﮐﺎ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﻣﺠﺮﻭﺡ ﻧﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﭘﺎﺋﮯ۔