ویکینڈ کی شام تھی
ہمیشہ کی طرح اپنے دوست حافظ مبشر کے ساتھ پسندیدہ ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے چلے گئے
آرڈر دینے لگے تو دیکھا کہ پرانا ویٹر موجود نہیں تھا اسکی جگہ ایک نیا ویٹر آرڈر لے رہا تھا
کچھ ٹیبلوں پہ گھوم گھام کے وہ ہماری طرح آیا اور خوشدلی سے بولا
کیا لاؤں جناب
میں جو موبائل میں غرق تھا , سر اٹھا کر اسے دیکھا اور مسکرا کر بولا
آدھ کلو مٹن کڑاہی , روغنی نان اور ہمدردی کے دوبول
کچھ دیر گپیں ہانکتے رہے اور پھر وہ ویٹر آرڈر لیکر آ گیا , کالی مرچوں میں بنی اس مٹن کڑاہی کی خوشبو بار بار ہمیں بلا رہی تھی , قریب تھا کہ ہم اس پہ ٹوٹ پڑتے
ویٹر کی آواز نے سکوت توڑ دیا ,
اور کیا کہا تھا آپ نے سر ؟
او ہاں … ہمدردی کے دو بول ؟ میں نے دانت نکالتے ہوے کہا
ویٹر نے ادھر ادھر دیکھ کر اپنا منہ میرے کان کے پاس لایا اور بولا
نا کھانا , کھوتا ای
😀😀
No comments:
Post a Comment