Friday, May 5, 2017

کچھ دن پہلے کی بات ہے مجھے ایک کام کے سلسلے میں لاہور جانا پڑا

کچھ دن پہلے کی بات ہے مجھے ایک کام کے سلسلے میں لاہور جانا پڑا -میں رات کے ٹائم لاہور پہنچا تھا-اور اپنے کام کو نمٹا کر کچھ شاپنگ وغیرہ کی- جب میں فیصل آباد واپسی کے لیۓ بیٹھا تو رات کے تقریبا 3 بج رہے تھے- میرے ساتھ والی سیٹ پر ایک باریش بزرگ بیٹھے تھے- بس میں سواریاں کم تھی اور بس نے اڈے سے نکلتے ہوۓ تقریبا آدھا گھنٹہ لگا دیا-
اب بس فیصل آباد کی طرف رواں دواں تھی - کنڈیکٹر سواریوں سے کرایہ لے رہا تھا  میں نے بھی کرایہ دیا اور ٹکٹ لے لیا -میرے ساتھ بیٹھے  بزرگ جب کرایہ دینے لگے تو انھوں نے کنڈیکٹر سے پوچھا  بس کتنے بجے فیصل آباد پہنچے گی؟؟؟
کنڈیکٹر کہنے لگا : ‏6‎ ‎‏ بجے تک ان شاء اللہ ......
اس پر وہ بزرگ بولے نہیں تم مجھے شاہ کوٹ کا ٹکٹ دے دو -شاہ کوٹ فیصل آباد سے تقریبا 45 منٹ پہلے آتا ہے-
کنڈیکٹر ان کو ٹکٹ دے کر چلا گیا تو میں نے پو چھا ،،
‏،،آپ نے تو فیصل آباد نہیں جانا تھا ؟؟؟
ہاں جانا تو فیصل آباد ہی ہے،، انہوں نے جواب دیا! جب تک وہاں پہنچیں گے فجر کی نماز کا ٹائم نکل جاۓ گا،،اس لیۓ میں شاہ کوٹ اتر کر نماز جماعت کے ساتھ ادا کروں گا ، پھر اگلی بس میں بیٹھ کر فیصل آباد چلا جاؤں گا-
اتنے میں شاہ کوٹ آگیا بزرگ مصافحہ کرکے اتر کر چلے گۓ اور میں سوچوں کے سمندر  میں غرق ہو گیا :؟
ایک وہ تھے کہ جنھوں نے اپنا سفر نماز کے لیۓ ادھورا چھوڑ دیا اور ایک ہم ہیں کہ فارغ بیٹھے ہوتے ہیں -مسجد میں اذان ہو رہی ہوتی ہے اور ہمارے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی--- فارغ نہ بھی ہوں تو بھی نماز ہر کام سے اہم ہے -مؤذن کہتا رہتا ہے !
‏،، حی الصلاح ،، حی الفلاح ،،
‏"آؤ نماز کی طرف!
‏"آؤ کامیابی کی طرف!
لیکن ہم اپنے اولین فریضہ کو بھلا کر ، دنیاوی کاموں میں مگن رہتے ہیں.....اگر ہم غور کریں تو !

فلاح  نماز  میں  ہے  یا  دنیا  کے  کاموں  میں  ہے . . .؟

No comments:

Post a Comment