Friday, May 5, 2017

اس کا رخ ماہتاب اس کے ہاتھ چوم لوں

اس کا رخ ماہتاب اس کے ہاتھ چوم لوں
جو بس چلے تو اس کی ہراک بات چوم لوں..
چھو جاۓ اس کی زلف کو بارش کی کوئی بوند
وہ بوند کیا، وہ بارش کیا برسات چوم لوں..
آ جاۓ خواب میں جو کبھی بھول کر مرے
وہ خواب کیا، وہ نیند کیا، وہ رات چوم لوں..
کچھ بھی نہیں چاہیے بس خالی ہاتھ پہ میرے
رکھ دے وہ اپنا ہاتھ، میں وہ ہاتھ چوم لوں..
وہ روتا ہوا لگ جاۓ میرے سینے سے کبھی
میں اس کے ہونٹ، اس کی ساری ذات چوم لوں.

No comments:

Post a Comment